مصنف : حسین اللہ

کسی بھی زندہ علمی روایت کی پہچان صرف یہ نہیں کہ وہ اپنے پیش روؤں کو کس قدر احترام سے یاد کرتی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ ان کے علمی کام کو کس قدر غیر جانب دارانہ انداز میں پرکھنے، سوال اٹھانے اور ازسرِنو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ علمی شخصیات وقت گزرنے کے ساتھ محض افراد نہیں رہتیں؛ وہ اداروں، تحقیقی روایتوں، علمی تصورات اور اجتماعی حافظے کا حصہ بن جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے گرد احترام اور تقدیس کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہو جاتا ہے۔ جب کسی علمی شخصیت کو تنقیدی نظر سے دیکھنے کی گنجائش محدود ہو جائے تو علمی روایت اپنی بنیادی تنقیدی صلاحیت اور فکری نشوونما کا ایک اہم وسیلہ کھو سکتی ہے۔

حالیہ دنوں میں پروفیسر احمد حسن دانی کی علمی میراث (Legacy) کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک اہم بحث سامنے آئی ہے، جس نے کئی بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے۔ اس بحث میں ’’دانی فوبیا‘ جیسی اصطلاح بھی سامنے آئی۔ یہاں اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ دانی پر تنقیدی مؤقف رکھنے والے محققین کے اعتراضات کی علمی بنیاد اور نسبت کیا ہے؟ کیا یہ محض شخصی مخالفت ہے، یا اس کے پیچھے باقاعدہ تحقیق، مطالعہ اور تاریخ نویسانہ تنقید موجود ہے؟

یہ بحث بالخصوص قائداعظم یونیورسٹی، اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف آرکیالوجی اینڈ سولائزیشنز سے وابستہ ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر رفیع اللہ خان کی حالیہ تحریروں کے باعث زیادہ نمایاں ہوئی ہے۔ اگرچہ ان کی یہ مؤقف سوشل میڈیا پر خاص توجہ کا مرکز بنے ہیں، لیکن دانی کے ساتھ ان کی علمی نسبت موجودہ بحث سے کہیں پہلے کی ہے۔ انہوں نے دانی کی تاریخ نویسی، آثارِ قدیمہ اور علمی سرگرمیوں پر باقاعدہ  پہلے ہی تحقیقی کی ہے اور ان کی علمی خدمات اور تاریخ و آثارِ قدیمہ کو عام علمی حلقوں تک پہنچانے کے پہلو پر بھی کام کیا ہے۔ چنانچہ ان کی موجودہ تنقید کو محض ایک حالیہ یا شخصی ردِعمل سمجھنا ان کے سابقہ علمی کام کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا۔

یہاں ایک بنیادی نکتہ واضح کرنا ضروری ہے:دانی کے کام کا تنقیدی مطالعہ، دانی کے علمی مقام سے انکار نہیں۔ بلکہ کسی شخصیت کے علمی کام کو سنجیدگی سے پڑھنے کا تقاضا ہی یہ ہے کہ جہاں اس کی خدمات نمایاں ہوں وہاں انہیں تسلیم کیا جائے، اور جہاں اس کے علمی نتائج، منہج، تعبیرات، حدود یا قابلِ نظرِ ثانی پہلو موجود ہوں، وہاں انہیں بھی علمی دیانت کے ساتھ زیرِ بحث لایا جائے۔

یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ ڈاکٹر رفیع اللہ خان کی تنقید کو دانی کی خدمات کی نفی کے طور پر پڑھنا درست نہیں۔ ان کی تحریروں میں دانی کی علمی خدمات، تحقیقی وسعت، ادارہ سازی، تدریس اور آثارِ قدیمہ کے فروغ میں ان کے کردار کا اعتراف بارہا موجود ہے۔ وہ دانی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے علمی کام اور میراث سے متعلق سوالات بھی اٹھاتے ہیں—اور شاید یہی وہ پہلو ہے جسے بعض قارئین نے دانی پر حملہ یا تعصب سمجھ لیا۔ حالاں کہ علمی تنقید کی بنیادی روح ہی یہ ہے کہ اعتراف اور احتساب ساتھ ساتھ چلیں۔ کسی شخصیت کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے علمی منہج، نتائج، حدود اور دیرپا اثرات پر سوال اٹھانا نہ اس کی خدمات کو مٹاتا ہے اور نہ اس کی علمی حیثیت سے انکار کرتا ہے۔

درحقیقت ڈاکٹر رفیع اللہ خان کے مؤقف کو سمجھنے کے لیے یہ فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ وہ دانی کی خدمات سے انکار نہیں کرتے، بلکہ ان خدمات کے ساتھ ان کے علمی کام کی کمزوریوں، حدود، منہج اور میراث کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں۔ یہی فرق موجودہ بحث میں اکثر نظرانداز ہو رہا ہے۔ دانی کے کام کی تعریف کرنا اور اس کے بعض پہلوؤں پر تنقید کرنا بیک وقت ممکن ہے؛ بلکہ ایک سنجیدہ علمی روایت میں یہی رویہ زیادہ صحت مند سمجھا جانا چاہیے۔

بے شک پروفیسر احمد حسن دانی پاکستان کی علمی اور آثارِ قدیمہ کی تاریخ میں ایک نمایاں اور غیر معمولی شخصیت تھے۔ ان کی طویل علمی زندگی نے آثارِ قدیمہ، تاریخ، لسانیات اور قدیم تہذیبوں کے مطالعے کے متعدد پہلوؤں کو متاثر کیا۔ تدریس، میدانی تحقیق، کھدائی، تصنیف، تدوین اور علمی ادارہ سازی کے ذریعے انہوں نے پاکستان میں آثارِ قدیمہ کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی علمی وسعت اور بین الاقوامی روابط نے انہیں پاکستان ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے وسیع تر علمی منظرنامے میں بھی ایک ممتاز مقام عطا کیا۔ ان خدمات کا اعتراف کسی بھی سنجیدہ بحث کا نقطۂ آغاز ہونا چاہیے، اختتام نہیں۔

تو اصل سوال یہیں سے شروع ہوتا ہے:

کیا کسی علمی شخصیت کی عظمت اسے علمی احتساب سے مستثنیٰ کر دیتی ہے؟

اگر کسی محقق کے نتائج، تعبیرات، منہج یا علمی ترجیحات کو معاصر علمی مباحث، بعد کے شواہد اور بدلتے ہوئے نظریاتی تناظر کی روشنی میں دوبارہ پرکھا جائے تو کیا یہ اس محقق سے دشمنی کے مترادف ہے؟ کیا اختلاف کو ’’تعصب‘‘ اور تنقید کو ’’فوبیا‘‘ قرار دینا بذاتِ خود کوئی علمی جواب ہے؟ یا علمی روایت کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے عظیم ترین پیش روؤں کو بھی سوال، تحقیق اور تنقیدی جائزے کے اسی پیمانے پر پرکھا جائے جس پر ہم کسی دوسرے محقق کو پرکھتے ہیں؟

یہی وہ مقام ہے جہاں ڈاکٹر رفیع اللہ خان کی تنقید کو محض دانی کی شخصیت پر اعتراض کے بجائے ایک وسیع تر علمی سوال کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا بنیادی سوال یہ ہے کہ کسی علمی شخصیت کی میراث کا اندازہ صرف اس سے نہیں لگایا جا سکتا کہ اسے کتنی عقیدت، شہرت یا احترام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ کسی علمی شخصیت کو غیر معمولی مقام حاصل ہو جانے کے بعد بھی اس کے تحقیقی نتائج، منہج، شواہد کے استعمال، تعبیرات اور علمی دعووں کو آثارِ قدیمہ کے مروجہ علمی اصولوں، بعد کے شواہد اور نئے نظریاتی مباحث کی روشنی میں پرکھنا ضروری ہے۔

اور جب بات علمی میراث کی ہو تو سوال مزید وسیع ہو جاتا ہے:دانی کے بعد ان کے کام سے کتنی مضبوط علمی روایت آگے بڑھی؟ کتنے نئے سوالات پیدا ہوئے؟ کتنے محققین اور ماہرین تیار ہوئے؟ ان سے وابستہ ادارے اور علمی جرائد کس حد تک مستحکم اور خود کفیل ہوئے؟ اور نئی نسل نے ان کے علمی کام کو محض محفوظ رکھا یا اسے تنقیدی طور پر آگے بھی بڑھایا؟

یہ سوالات کسی شخصیت کو کم تر ثابت کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اس کی میراث کو سمجھنے کے لیے ہیں۔ کیونکہ کسی عالم کی میراث صرف اس کی اپنی تصانیف، شہرت یا یادگاروں میں نہیں ہوتی؛ اس کا اصل امتحان اس علمی روایت میں ہوتا ہے جو اس کے بعد باقی رہتی اور آگے بڑھتی ہے۔

 دانی کو ان کے عہد کے علمی تناظر میں پڑھنا

کسی بھی علمی شخصیت کے کام کا منصفانہ جائزہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک اسے اس کے اپنے عہد کے علمی ماحول اور بعد میں ہونے والی علمی پیش رفت، دونوں کے تناظر میں نہ دیکھا جائے۔ دانی کی علمی زندگی بھی ایسے ہی ایک اہم دور سے گزری، جب آثارِ قدیمہ محض کھدائی، نوادرات کی درجہ بندی اور ماضی کی تاریخی بازسازی تک محدود نہیں رہا تھا، بلکہ اس کے نظریاتی، سائنسی اور بین العلومی دائرے تیزی سے وسیع ہو رہے تھے۔

خصوصاً 1960ء کی دہائی کے بعد عالمی آثارِ قدیمہ میں نئے نظریاتی اور طریقۂ کار کے مباحث نمایاں ہوئے۔ عملیاتی آثارِ قدیمہ (Processual Archaeology) نے مادی شواہد کے ذریعے ماضی کے معاشرتی اور ثقافتی نظاموں کی باقاعدہ اور سائنسی توضیح پر زور دیا، جبکہ بعد کے مابعد عملیاتی آثارِ قدیمہ (Post-processual Archaeology) نے تعبیر، انسانی agency، معنی، علامت اور ثقافتی تنوع جیسے سوالات کو زیادہ نمایاں کیا۔ اسی دوران سائنسی تکنیکوں، بین العلومی تحقیق، ماحولیاتی آثارِ قدیمہ، مقداری تجزیے اور دیگر طریقۂ کار نے بھی آثارِ قدیمہ کے دائرۂ تحقیق کو وسعت دی۔

اس پس منظر میں پاکستانی آثارِ قدیمہ میں ان عالمی علمی تبدیلیوں کی پذیرائی اور اثر پذیری خود ایک اہم تحقیقی سوال بن جاتی ہے۔ یہاں سوال محض دانی کی علمی اہلیت، ان کی بنیادی خدمات یا ان کے مقام کا نہیں، بلکہ ان علمی امکانات کے استعمال کا بھی ہے جو ان کے عہد میں دستیاب ہو چکے تھے۔

دانی ایک ایسے دور میں فعال تھے جب ان کے پاس وسیع بین الاقوامی روابط، علمی مراکز تک رسائی اور متنوع علمی ذرائع موجود تھے۔ ان کے اپنے علمی کام میں بھی آثارِ قدیمہ کے طریقۂ کار، سائنس اور ماضی کی تعبیر کے مسائل سے ان کی واقفیت کے شواہد ملتے ہیں۔ چنانچہ زیادہ اہم سوال یہ نہیں کہ “کیا دانی جدید علمی مباحث سے واقف تھے؟” بلکہ یہ ہے کہ ان کے اپنے علمی شعور اور پاکستانی آثارِ قدیمہ کی مجموعی علمی روایت کے درمیان کتنا فاصلہ موجود رہا؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ دانی نے پاکستان میں آثارِ قدیمہ کو محض ایک تحقیقی سرگرمی کے طور پر نہیں بلکہ یونیورسٹی کی سطح پر ایک باقاعدہ علمی شعبے کے طور پر فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1960ء کی دہائی کے آغاز میں پشاور یونیورسٹی میں آثارِ قدیمہ کے شعبے کی تشکیل اور اسی دور میں ان کی وابستگی سے Ancient Pakistan کا اجرا اس ادارہ جاتی کوشش کی اہم مثالیں ہیں۔

لیکن کسی علم کو یونیورسٹی میں متعارف کرانا اور اس علم کی مستقل، خود تنقیدی اور نسل در نسل ترقی پذیر علمی روایت قائم کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ یہی فرق دانی کے علمی کردار اور ان کی میراث کے سوال کو زیادہ پیچیدہ بناتا ہے۔

اگر دانی نے پاکستانی آثارِ قدیمہ کے لیے ایک بنیاد فراہم کی، تو یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ یہ بنیاد اپنے عہد کی معاصر علمی پیش رفت کے ساتھ کس حد تک ہم آہنگ تھی اور اس کے بعد اس پر کیا علمی عمارت تعمیر ہوئی۔ کیا دانی کے اثر سے صرف مخصوص موضوعات اور طریقے آگے بڑھے، یا تحقیق کے طریقۂ کار، نظریاتی فریم ورک، سائنسی تکنیکوں اور علمی تربیت میں بھی اسی تناسب سے وسعت پیدا ہوئی؟ اور اگر یہ پیش رفت محدود رہی تو اس کے اسباب کیا تھے؟

اس بحث کو محض نظری سطح پر چھوڑنے کے بجائے ہم دانی کے روایتی طور پر کہلائی جانے والی گندھارا قبرستانی ثقافت پر کیے گئے کام کی مثال لے سکتے ہیں۔ اس کے مطالعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ احمد حسن دانی اس phenomenon پر تحقیق کرنے والے اہم پاکستانی محقق تھے۔ پشاور یونیورسٹی میں آثارِ قدیمہ کے شعبے کے قیام کے ابتدائی دور میں یہ موضوع ان کی اہم تحقیقی دلچسپیوں میں شامل رہا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے اسے کس علمی فریم ورک کے تحت کیا،  سمجھا اور اس کی تعبیر کیسے کی۔ تو بلاشبہ ان کا طریقۂ کار بڑی حد تک culture-historical approach سے وابستہ تھا، جس میں مادی ثقافتوں کی شناخت، ان کی تقسیم، ثقافتی مماثلتوں، نقل مکانی اور diffusion جیسے تصورات کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ یہ طریقۂ کار اپنے تاریخی سیاق میں اہم تھا، لیکن اسی عرصے میں عالمی آثارِ قدیمہ میں اس کے متبادل نظریاتی اور طریقۂ کار بھی تیزی سے سامنے آ رہے تھے۔

یہاں دانی کی scholarship کے بارے میں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: جب عالمی آثارِ قدیمہ اپنے نظریاتی اور طریقۂ کار کے پیمانے تبدیل کر رہا تھا، تو کیا دانی نے گندھارا قبر ثقافت کی تعبیر کو بھی ان نئی علمی پیش رفتوں کی روشنی میں ازسرِنو تشکیل دیا؟

اگر ان کے بعد کے کام کو دیکھا جائے تو یہ سوال مزید اہم ہوجاتا ہے کہ ان کی ابتدائی تعبیرات میں بعد کی نظریاتی اور طریقۂ کار کی پیش رفت کس حد تک شامل ہوئی۔ یہی سوال گندھارا قبر ثقافت کے معاملے کو ایک وسیع تر علمی مسئلے سے جوڑتا ہے: ایک مؤثر scholar اپنے ابتدائی فریم ورک کے ساتھ بدلتے ہوئے علمی منظرنامے کو کس حد تک جذب کرتا ہے؟

گندھارا قبر ثقافت کا معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ دانی کی ابتدائی تعبیر نے اس phenomenon کو سمجھنے کے لیے پاکستانی علمی discourse میں ایک مضبوط حوالۂ نقطہ فراہم کیا۔ بعد میں سامنے آنے والے  archaeological شواہد نے اس کی ابتدائی تعبیرات، خصوصاً ثقافتی نسبت، chronology اور diffusion/migration سے متعلق مفروضوں کو نئے سوالات کے سامنے لا کھڑا کیا۔ اس کے باوجود، دانی کی غیر معمولی علمی شہرت کے باعث ان کی بعض ابتدائی تعبیرات طویل عرصے تک علمی مباحث، تدریس اور عمومی تصورات میں اثرانداز رہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ڈاکٹر رفیع اللہ خان کی تنقید کا وسیع تر مفہوم سامنے آتا ہے۔ ان کا مطالبہ محض دانی کو تنقید کا نشانہ بنانا نہیں، بلکہ دانی سمیت ہر علمی پیش رو کو شواہد، منہج اور نئے علمی سوالات کی روشنی میں دوبارہ پڑھنا ہے۔ اگر ایک بانی شخصیت کی تعبیر کو صرف اس کی شہرت کی وجہ سے سوال سے بالاتر سمجھ لیا جائے تو پھر علمی روایت آگے بڑھنے کے بجائے اپنے ماضی کی حفاظت میں مصروف ہو جاتی ہے۔

گندھارا قبر ے کی مثال ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ کسی scholar کی عظمت اور اس کے ہر نتیجے کی صحت دو الگ چیزیں ہیں۔ دانی کا علمی مقام اپنی جگہ، لیکن ان کے ہر archaeological inference کو بھی اتنی ہی تنقیدی جانچ سے گزرنا چاہیے جتنی کسی دوسرے محقق کے کام کو۔

یہی بات دانی کی مجموعی scholarship پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ ان کے متون، شواہد، تحقیقی منہج، نظریاتی مفروضوں اور نتائج کو نئے علمی تناظر میں دوبارہ پڑھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ان کے علمی فریم ورک میں کون سے پہلو آج بھی مضبوط اور قابلِ استفادہ ہیں، کن نتائج کو بعد کے شواہد کی روشنی میں نظرِ ثانی کی ضرورت ہے، اور کن سوالات کو ان کے کام سے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

کیونکہ کسی علمی روایت کی پختگی کا ثبوت یہ نہیں کہ وہ اپنے بانیوں کو کتنی بلند جگہ دیتی ہے؛ اصل ثبوت یہ ہے کہ وہ انہیں دوبارہ پڑھنے، ان سے اختلاف کرنے اور ان کے کام سے نئے سوالات پیدا کرنے کی کتنی آزادی رکھتی ہے۔

اگر کسی علمی شخصیت کے قائم کردہ فکری فریم ورک پر سوال اٹھانے سے ہمیں خوف محسوس ہونے لگے، تو شاید مسئلہ سوال میں نہیں، بلکہ اس علمی روایت کی تنقیدی قوت میں ہے۔

میراث Legacy

یہ بات واضح ہے کہ کسی scholar کی میراث کا اندازہ صرف اس کی تصانیف، شہرت، اعزازات یا اس کے نام سے وابستہ اداروں کی موجودگی سے نہیں لگایا جا سکتا۔ علمی میراث کا ایک زیادہ بنیادی پیمانہ یہ ہے کہ اس شخصیت کے بعد اس کے علمی کام سے کیا کچھ پیدا ہوا۔ کیا اس نے ایسے ادارے تشکیل دیے جو اس کی عدم موجودگی میں بھی علمی سرگرمیوں کو آگے بڑھاتے رہے؟ کیا اس نے اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لیے ایسے ادارے، محققین، اساتذہ اور ماہرین کی مضبوط روایت چھوڑی جو اس کے کام کو آگے بڑھا سکیں اور اسے نئی سمت دے سکیں؟

یہی وہ نکتہ ہے جہاں ’’دانی کی میراث‘‘ کا سوال محض ایک فرد کی علمی عظمت کا سوال نہیں رہتا بلکہ پاکستانی آثارِ قدیمہ کی مجموعی صورتِ حال سے جڑ جاتا ہے۔ دانی نے تدریس، ادارہ سازی، علمی جرائد کے اجرا، میدانی تحقیق اور علمی روابط کے ذریعے پاکستان میں آثارِ قدیمہ کے لیے ایک بنیاد فراہم کی؛ اس حقیقت سے انکار نہ صرف غیر منصفانہ ہوگا بلکہ تاریخی طور پر بھی درست نہیں۔ تاہم بنیاد فراہم کرنا اور اس بنیاد پر ایک مضبوط، خود کفیل اور مسلسل ترقی پذیر علمی روایت قائم ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔

اگر کسی ادارے کی علمی سرگرمیاں اس وقت تک مضبوط رہیں جب تک اس کا بانی خود فعال ہو، لیکن اس کے بعد ان کی رفتار کم ہونے لگے، تو یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کیا ادارہ واقعی institutionalized ہوا تھا، یا اس کی علمی قوت ایک فرد کی شخصیت اور موجودگی سے غیر معمولی حد تک وابستہ رہی؟

یہ سوال دانی کے زیرِ اثر قائم ہونے والے علمی مراکز اور ان سے وابستہ تحقیقی سرگرمیوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ محض کسی ادارے کی عمارت، رسمی حیثیت یا نام کا باقی رہنا اس وقت تک مکمل علمی میراث نہیں بن سکتا جب تک وہ مستقل اور معیاری علمی پیداوار، تربیت اور تحقیق کی روایت قائم نہ رکھے۔

یہاں ڈاکٹر رفیع اللہ خان کی جانب سے بیان کردہ میکس ویبر کا تصور “Routinization of Charisma” ایک مفید نظریاتی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ کسی غیر معمولی شخصیت کا اثر اس وقت پائیدار ادارہ جاتی شکل اختیار کرتا ہے جب اس شخصیت سے وابستہ علمی اختیار اور اثر ایسے اداروں، معمولات اور تحقیقی طریقوں میں منتقل ہو جائیں جو اس کی غیر موجودگی میں بھی برقرار رہ سکیں۔ دانی کے معاملے میں بھی یہی سوال اہم ہے: کیا ان کی علمی شخصیت ایک ایسی ادارہ جاتی اور تحقیقی روایت میں تبدیل ہوئی جو ان کے بعد بھی اپنے قدموں پر چل سکے؟

اس کے ساتھ ایک اور سوال بھی اہم ہے: دانی کے بعد کتنے ایسے پاکستانی archaeologists پیدا ہوئے جو اپنے اپنے تخصص میں بین الاقوامی سطح پر نمایاں ہوئے؟ کتنے ایسے ماہرین تیار ہوئے جو آثارِ قدیمہ کو archaeometry، environmental archaeology، bioarchaeology، digital archaeology، heritage science اور archaeological theory جیسے جدید شعبوں سے مؤثر طور پر جوڑ سکے؟ اور کتنے ایسے محققین سامنے آئے جنہوں نے دانی کی نسل کے بعد پاکستانی archaeology کے نظریاتی اور methodological افق کو وسیع کیا؟

یہ سوال صرف دانی سے نہیں بلکہ ہماری پوری علمی روایت   سے  بھی پوچھے جانے چاہئیں۔ تاہم، اگر ہم کسی scholar کو پاکستان میں ایک disciplinary pioneer اور مرکزی شخصیت تسلیم کرتے ہیں، تو پھر یہ جائز سوال بھی ضرور اٹھے گا کہ اس pioneering role کے نتیجے میں قائم ہونے والی علمی روایت آج کہاں کھڑی ہے۔آیئے اسے دوسرے انداز سے دیکھتے ہیں۔ اگر دانی کو ان کے جنوبی ایشیائی ہم عصروں کے ساتھ تقابلی طور پر پڑھا جائے تو یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ مختلف علمی شخصیات نے اپنے اپنے معاشروں میں archaeology کی institutional اور intellectual development میں کس نوعیت کا کردار ادا کیا۔

مثلاً ہندوستان میں ڈی۔ ڈی۔ کوشامبی، ایچ۔ ڈی۔ سانکلیا اور بی۔ بی۔ لال جیسے scholars کی میراث کو صرف ان کی ذاتی تصانیف کی بنیاد پر نہیں دیکھا جاتا؛ ان کے ذریعے پیدا ہونے والی علمی روایت، ادارے، تحقیقی مراکز، طلبہ، تخصصات اور بعد کی scholarship بھی ان کی legacy کا حصہ ہیں۔

خصوصاً H. D. Sankalia کی مثال اس لیے اہم ہے کہ ان کا کردار archaeology کو محض excavation تک محدود رکھنے کے بجائے اسے سائنسی، نظریاتی اور بین العلومی سمتوں سے جوڑنے اور ادارہ جاتی طور پر مضبوط کرنے میں بھی نمایاں تھا۔ اسی تقابلی تناظر میں دانی کی میراث کا سوال مزید معنی خیز ہو جاتا ہے۔

یہاں شاید سب سے مشکل سوال یہ ہے کہ اگر دانی پاکستان میں archaeology کے سب سے بااثر اور طویل عرصے تک فعال scholars میں سے ایک تھے، تو آج پاکستان میں archaeology کی مجموعی علمی صورتِ حال ایسی کیوں ہے؟

آج بھی متعدد archaeological projects میں غیر ملکی اداروں اور missions کی نمایاں موجودگی ہے۔ جدید archaeological techniques، specialized scientific laboratories، systematic training، interdisciplinary collaboration اور internationally competitive research infrastructure کی کمی محسوس کی جاتی ہے۔ پاکستانی طلبہ اور نوجوان archaeologists کے لیے field training، specialized research، funding اور professional opportunities بھی مستقل چیلنج ہیں۔

اور یہی صورتِ حال ہمیں دوبارہ legacy کے بنیادی سوال تک لے آتی ہے:ایک بڑی علمی شخصیت اور اس کے عہد نے ان مسائل کے مقابلے میں کون سی ایسی پائیدار بنیادیں فراہم کیں جو بعد کی نسلوں کو ان رکاوٹوں سے نکلنے میں مدد دیتیں؟

اگر کسی scholar کو اپنے عہد میں غیر معمولی ادارہ جاتی، علمی یا حکومتی تعاون اور اثر و رسوخ حاصل رہا ہو، تو پھر اس سے وابستہ disciplinary self-accountability کا سوال اٹھانا بھی غیر مناسب نہیں۔ ایسے سوالات کو محض ’’دانی فوبیا‘‘ کہہ کر رد کرنا شاید آسان ہو، مگر علمی روایت کے لیے زیادہ مفید راستہ یہ ہے کہ ان کا جواب شواہد، تقابل اور تحقیق کی بنیاد پر دیا جائے۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس بحث کا مقصد احمد حسن دانی کی علمی خدمات کو کم کرنا نہیں، بلکہ ڈاکٹر رفیع اللہ خان کی تنقید کو ایک وسیع تر علمی تناظر میں سمجھنا ہے۔ ان کی تحریروں میں دانی کی خدمات کا اعتراف واضح طور پر موجود ہے، تاہم وہ ان کے بعض علمی دعووں، ترجیحات اور میراث پر سوال بھی اٹھاتے ہیں۔ دراصل یہی critical scholarship کی بنیادی روح ہے کہ کسی بھی scholar کو محض عقیدت کی بنیاد پر قبول کرنے کے بجائے اس کے کام کو شواہد، منہج اور استدلال کی بنیاد پر پرکھا جائے۔

اسی طرح ڈاکٹر رفیع اللہ خان کے مؤقف سے اختلاف کا حق بھی ہر scholar اور قاری کو حاصل ہے۔ لیکن اختلاف کا علمی جواب بھی شواہد، تحقیق اور قابلِ دفاع علمی استدلال کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ محض کسی شخصیت سے جذباتی وابستگی یا اس کی عظمت کے تصور کی بنیاد پر تنقید کو مسترد کرنا علمی مکالمے کو آگے نہیں بڑھاتا۔ اگر ہم اپنے پیش روؤں کو واقعی علمی شخصیات سمجھتے ہیں تو ان کے کام کو سوال، اختلاف اور تنقیدی تحقیق کے لیے کھلا رکھنا ہی ان کے ساتھ حقیقی علمی انصاف ہے۔