سوات: مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو ملک گیر پہیا جام ہڑتال اور اسلام آباد مارچ ہوگا، حافظ نعیم الرحمن
مینگورہ سوات(سلیمان سے)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت نے عوام کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو اگلے مرحلے میں ملک گیر پہیا جام ہڑتال کی جائے گی اور اس کے بعد اسلام آباد کی طرف مارچ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکمران اپنی شاہ خرچیوں، کرپشن اور نااہلی کا بوجھ عوام، مزدوروں اور کسانوں پر ڈال رہے ہیں، جسے مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔
وہ مینگورہ کے نشاط چوک میں پیٹرولیم لیوی، ظالمانہ ٹیکسوں اور آئی پی پیز معاہدوں کے خلاف جاری دھرنے کے بڑے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کراچی سے چترال، گوادر سے کالام اور پورے ملاکنڈ ڈویژن میں کامیاب شٹر ڈاؤن ہڑتال پر تاجروں اور عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے اپنے اتحاد سے حکومت کو واضح پیغام دے دیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری لیوی اور اضافی ٹیکس فوری طور پر ختم کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول پر بھاری ٹیکسوں کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے اور عام آدمی کے لیے زندگی گزارنا مشکل بنا دیا گیا ہے۔
انہوں نے آئی پی پیز معاہدوں پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 1994 سے قائم بجلی کے معاہدوں کا ازسرنو جائزہ لے کر عوام کو حقیقی ریلیف دیا جائے اور بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد اور راولپنڈی دھرنے کے نتیجے میں بجلی کے بلوں میں 25 سے 30 فیصد کمی کا معاہدہ ہوا، تاہم مزید پاور پلانٹس کے معاہدوں پر بھی شفاف طریقے سے کام کرنا ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام نے کئی دہائیوں تک بدامنی، کرفیو، دہشت گردی اور قدرتی آفات کا سامنا کیا ہے، اس لیے یہاں کے عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنا ناانصافی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 1969 میں ریاست سوات کے پاکستان سے انضمام کے وقت طے پانے والے معاہدوں اور علاقے کے مخصوص حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملاکنڈ ڈویژن کو ٹیکسوں میں خصوصی رعایت دی جائے۔
حافظ نعیم الرحمن نے سوات کے پہاڑوں اور زمینوں سے متعلق اقدامات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقامی لوگوں کے مالکانہ حقوق کا تحفظ کیا جائے اور انہیں اپنی زمینوں اور وسائل سے محروم کرنے کی کوششیں بند کی جائیں۔
انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ مذاکرات کے نام پر مزید تاخیری حربے قابل قبول نہیں۔ اگر مطالبات پر پیش رفت نہ ہوئی تو اگلے مرحلے میں صرف شٹر ڈاؤن نہیں بلکہ ملک گیر پہیا جام ہڑتال کی جائے گی، جس کے دوران گاڑیاں، ٹرالرز اور پیٹرول پمپس بند رکھنے کی کال دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر اس کے باوجود عوام کو ریلیف نہ دیا گیا تو کراچی اور گوادر سے لے کر چترال، سوات اور پنجاب تک لاکھوں افراد اسلام آباد کے ڈی چوک کی جانب مارچ کریں گے۔














