قدرتی دلکش اور دلفریب مناظر سے دھکی وادی سوات ہمیشہ سے سیاحوں کی توجہ کا محور و مرکز رہی ہے، لیکن شاید ہی کوئی جانتا ہو کہ اس وادی کی جتنی بھی خوبصورتی ہے اس میں دریائے سوات کا کردار مرکزی و مسلم ہے، جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سوات وہ وادی ہے جو لوگوں کے دلوں کو خوشی سے بھردیتی ہے، یہ سچ ہے کہ آج کے تیز رفتار اور تناؤ والے دور میں خوشی کی کمی محسوس ہوتی ہے، اور اس کمی کو پورا کرنے کا سب سے بہترین طریقہ سوات اور اس جیسی دیگر خوبصورت وادیوں کی سیر کرنا ہے۔

سیاحوں اور مقامی عمائدین ایک رائے رکھتے ہیں کہ سوات کے قدرتی حسن میں دریائے سوات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، سوات کی خوبصورتی کا دل و جان دریائے سوات ہے، جو وادی کے حسن کو بلاشبہ ایک نیا رنگ دیتا ہے۔

وادی کے دلفریب مناظر اس بہتے پانی سے ہی پرکشش بنتے ہیں
دریائے سوات وہ قدرتی آبی جسم ہے جس پر وادی سوات کی تمام تر خوبصورتی کا انحصار ہے، یہ دریا نہ صرف سوات کے مختلف حصوں میں زندگی کا موجب ہے، بلکہ اس کی بدولت سوات کی تمام وادیاں سرسبز و شاداب نظر آتی ہیں، اتروڑ، گبرال، اوشو، مٹلتان، کالام، بحرین، مدین، باغ ڈھیری، خوازہ خیلہ، شین، چارباغ اور منگورہ جیسی مشہور وادیاں دریائے سوات کے کنارے آباد ہیں۔ ان وادیوں کا ہر گوشہ قدرتی جمال اور دلکشی کا مظہر بنتا ہے، اور ان سب کا راز صرف اسی بہتے دریا میں چھپا ہوا ہے۔
یہ دریا کالام سے لے کر مالاکنڈ کے بجلی گھر تک تقریباً 100 میل کا طویل سفر طے کرتا ہے، اور اس دوران اس کی جھیلیں، ندیوں اور کنارے قدرتی خوبصورتی سے معمور ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم کہیں کہ دریائے سوات سوات کی زمین کا دل ہے تو یہ بے جا نہیں ہوگا۔

دریائے سوات کی تاریخ
دریائے سوات کو کسی زمانہ میں اس کے صاف شفاف پانی سے یاد کیا جاتا تھا، سکندرِ اعظم کے ساتھ آئے ہوئے مؤرخین نے بھی اس دریا کا ذکر کیا تھا، اور اس کی صفائی اور شفافیت کو سوات کی خوبصورتی کا اہم جزو سمجھا تھا۔ دریا کے اس شفاف پانی نے اس وقت کے عہد کے لوگوں کو بھی متاثر کیا اور اسے ایک خاص مقام دیا۔
سوات کا یہ دریا ہزاروں سال پرانا ہے، اور یہ کبھی بھی اس قدرتی آلودگی سے متاثر نہیں ہوا جس کا سامنا ہم آج کے صنعتی دور میں کرتے ہیں۔ قدیم دور میں یہ دریا اور اس کے ارد گرد کی فضائیں قدرتی حسن سے لبریز تھیں، جہاں خوشبو دار پھول اور گھنے جنگلات سوات کی پہچان تھے۔ سوات کی ہر ندی، نالہ، آبشار اور دریا آج بھی وہی خالص اور پرامن صورت اختیار کئے ہوئے ہیں جو ان کا قدیم دور تھا۔

دریائے سوات کے مختلف علاقوں میں مختلف نام
دریائے سوات کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ یہ مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے، سوات کی حدود سے نکل کر یہ دریائے پنج کوڑہ (دیر) کے ساتھ مل کر دریائے پنج کوڑہ کہلاتا ہے، اور پھر جب یہ پشاور اور چارسدہ میں پہنچتا ہے تو اسے ’’جیندی‘‘ اور ’’خیالی‘‘ کے ناموں سے پکارا جاتا ہے، سوات کا یہ حسین دریا اپنے سفر میں مختلف شکلوں میں نظر آتا ہے، کبھی چھوٹا اور پتلا، تو کبھی وسیع و عریض۔کالام سے چارسدہ اور آگے سفر کرتا دریائے سوات
دریائے سوات کی مجموعی لمبائی تقریباً 210 کلومیٹر ہے، جو کالام سے چارسدہ کے نِستہ تک پھیلتی ہے۔ کہیں یہ دریا سکڑ کر کم چوڑائی اختیار کرلیتا ہے اور کہیں یہ اتنا وسیع ہو جاتا ہے کہ اس کی چوڑائی دو کلومیٹر تک پہنچ جاتی ہے۔ بحرین اور کالام کے درمیان یہ دریا بہت تنگ ہو جاتا ہے، جہاں اس کی چوڑائی صرف پچاس فٹ رہ جاتی ہے، لیکن سوات کے مرکز، منگورہ میں یہ دریا اپنی پوری عظمت کے ساتھ پھیلتا ہے۔