بیجنگ: چین نے اپنی کم ہوتی آبادی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک نیا چین آبادی منصوبہ متعارف کرادیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت چینی شہری اب مانع حمل ادویات اور دیگر اشیاء پر 13 فیصد سیلز ٹیکس ادا کریں گے، جبکہ بچوں کی دیکھ بھال کی خدمات اور شادی سے متعلقہ خدمات ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نئے منصوبے کے بعد 1994 سے نافذ ایک بچے کی پیدائش والی پابندی ختم کردی گئی ہے۔ منصوبے کا مقصد والدین کو زیادہ بچوں کی پرورش اور شادی کرنے کی ترغیب دینا ہے، اس کے ساتھ والدین کی چھٹی بڑھانے اور نقد رقم کی فراہمی بھی اس میں شامل ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین کی آبادی مسلسل تین سال کم ہو رہی ہے اور بیجنگ حکومت اس کے لیے نوجوانوں کو شادی اور بچوں کی پیدائش کے لیے مختلف مراعات فراہم کر رہی ہے۔