گجرانوالہ پولیس مقابلہ: سوات کے دو نوجوانوں کی ہلاکت، لواحقین کا شدید احتجاج، انصاف کا مطالبہ

سوات (مارننگ پوسٹ) گجرانوالہ کے سول لائن کے علاقے میں مبینہ پولیس مقابلے میں سوات سے تعلق رکھنے والے دو نوجوانوں شعیب اور اکرام کی ہلاکت پر ان کے لواحقین میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ واقعے کے خلاف گزشتہ شب لواحقین نے نشاط چوک مینگورہ میں لاشیں رکھ کر کئی گھنٹوں تک احتجاجی مظاہرہ کیا اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کی۔

لواحقین نے پولیس مقابلے کو جعلی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ شعیب اور اکرام کو 8 دسمبر کو کوکارئی پولیس کے ہمراہ گرفتار کیا گیا، بعد ازاں انہیں عدالت میں پیش کرکے جیل بھیجا گیا۔ لواحقین کے مطابق عدالت کے بعد دونوں نوجوانوں کو گجرانوالہ پولیس کے حوالے کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے انہیں مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔

دوسری جانب گجرانوالہ پولیس کا مؤقف ہے کہ دونوں ملزمان 5 دسمبر 2025 کو مسیحی پادری کامران کے قتل میں ملوث تھے اور انہیں برآمدگی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ راستے میں ان کے تین نامعلوم ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی۔ پولیس کے مطابق دو طرفہ فائرنگ کے دوران دونوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے جبکہ دیگر ملزمان فرار ہو گئے۔

واقعے پر سی پی او گجرانوالہ ڈاکٹر سردار غیاث گل خان نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس پی سول لائن سے رپورٹ طلب کر لی ہے اور فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

ادھر سوات میں لواحقین کا کہنا ہے کہ اگر نوجوان کسی جرم میں ملوث تھے تو انہیں قانون کے مطابق سزا دی جاتی، ماروائے عدالت قتل ناقابلِ قبول ہے۔ مظاہرین نے وزیراعظم پاکستان، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، آئی جی پنجاب اور خیبر پختونخوا پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی غیر جانبدار جوڈیشل انکوائری کرائی جائے، ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔

لواحقین نے یہ بھی انکشاف کیا کہ فیصل نامی ایک نوجوان تاحال گجرانوالہ پولیس کی حراست میں ہے، جس پر انہوں نے اس کی جان و سلامتی کے حوالے سے شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔

علاقے میں فضا سوگوار ہے جبکہ سوات کے عوام اور شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں تاکہ عوام کا قانون اور ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے۔