پاکستان کونسل برائے تحقیقاتِ آبی وسائل (PCRWR) کی تازہ سہ ماہی رپورٹ میں غیر معیاری منرل واٹر کی نشاندہی نے شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ جولائی سے ستمبر 2025 تک ملک بھر میں فروخت ہونے والے 205 برانڈز کے تجزیے میں خطرناک انکشاف سامنے آیا کہ 26 برانڈز صحت کے معیار پر پورے نہیں اترتے اور ان کا استعمال انسانی صحت کے لیے مضر ثابت ہوسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مختلف برانڈز میں سوڈیم، سنکھیا (آرسنک)، پوٹاشیم اور ٹی ڈی ایس کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ پائی گئی جبکہ 17 برانڈز جراثیم سے آلودہ نکلے۔ ادارے نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ پانی خریدتے وقت ضروری احتیاط برتیں کیونکہ یہ غیر معیاری منرل واٹر پیٹ کے انفیکشن، بلڈ پریشر، گردوں کے مسائل اور دیگر بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔
PCRWR کے مطابق جن برانڈز میں سوڈیم حد سے زیادہ پایا گیا ان میں پیور ڈرنکنگ واٹر، الٹسن اور پیوریفا شامل ہیں۔ اسی طرح آرسنک زیادہ ہونے والے برانڈز میں نیچرل پیور لائف، ایکوا نیسٹ، پریمیم صفا پیوریفائڈ واٹر، پیو پانی اور وولگا شامل ہیں۔ آرسنک انسانی جسم میں جمع ہو کر جگر اور جلد کی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔
پوٹاشیم کی غیرمعمولی مقدار مائی پیور واٹر اور سمارٹ پیور لائف میں پائی گئی، جبکہ ٹی ڈی ایس مقررہ معیار سے زیادہ ہونے کے باعث دو برانڈز بھی غیر محفوظ قرار دیے گئے۔
سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ 17 برانڈز جراثیم سے آلودہ پائے گئے جن میں اے ٹو زیڈ پیور، نیو مہران، زلمی، پیور لائف، دیر ڈرنکنگ واٹر، ڈریم پیور، گلف، کرسٹل ایکوا، روحا واٹر، پریمیم ڈرنکنگ واٹر، فریش ایکوا، ایشیا ہیلتھی ڈرنکنگ واٹر، آئس برگ، لاثانی، وولگا اور مایا پریمیم شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان برانڈز کے پانی میں موجود بیکٹیریا پیٹ کی شدید خرابی، الٹی، اسہال اور بچوں میں پانی کی کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔
ادارے نے واضح کیا ہے کہ شہری صرف تصدیق شدہ اور محفوظ برانڈز ہی استعمال کریں، کیونکہ غیر معیاری پانی کا طویل استعمال صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
205 غیر معیاری منرل واٹر کی نشاندہی، شہریوں میں تشویش بڑھ گئی













