ماحولیاتی آلودگی، خاص طور پر دھول اور دھواں، آج کے دور میں انسانی صحت اور زندگی کا سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ یہ خاموش قاتل نہ صرف ہمارے ماحول کو تباہ کر رہے ہیں بلکہ ہماری روزمرہ زندگی، سانس کے نظام اور مجموعی معیارِ زندگی کو بھی بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔
دیکھا جاۓ تو ہمارے معاشرے میں دھول اتنا کثیر مقدار تک پہنچ چکا ہے کہ ہر دوسرا آدمی ناک،گلہ اور پھیپڑوں کے بیماری کا شکار ہیں اور اس کا اصل وجہ درختوں کی کٹائ اور رکشہ،چینکچی کا ساںٔلنسر نیچھے ہونا اس وجہ سے دھول اٹھتاہے اور یہ عام دھول نہیں ہوتا اس میں موجود مرے ہوۓ چوہے اور بے شمار چھوٹے چھوٹے زرات جو انتہائ زہریلے ہوتے ہیں اس وجہ سے مختلف امراض میں اضافے کا سبب بنتا ہے
ہسپتال میں پڑے ہر دوسرا مریض یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی اصل وجہ دھول اور دھواں ہی ہےکینسر جیسی خطر ناک بیماری،دمہ،گلے کی خرابی اور ناک کی بیماری بھی اس کے وجوہات میں اتی ہے
کمیٹی اور صاف صفائ والی انتظامیہ کی ذمہ داری یہ ہوتی ہےکہ کچرا بر وقت لے جاۓ یہ عمل نہ ہونے کے وجہ سے لوگ مجبوری میں کچرا زمینوں پر پھینکتے ہیں اور ہر جگہ کچرے کا ڈھیر بن جاتایےاس دوران تھوڑی سی ہوا چلنے سے سارا کچرا اور دھول دکانوں میں اور گھروں تک پھیل جاتی ہے یہ سب انتظامیہ کی بے حسی میں شامل ہےاور بعض افراد ہاتھ گاڑی میں کچرا لاکر کچرے والے کنٹینر میں اگ لگا کر چھوڑ جاتے ہے جس سے پیدا ہونے والے دھوںٔیں میں موجود خطرناک گیسز کاربن مونوکساںٔیڈ(carbon monoxide)،ڈایوزینز(dioxins),اور ہاںٔڈروجن کلوراںٔڈ(Hydrogen chloride) جو انسان کے خون میں اکسیجن کی کمی,کینسر اور گلے کے امراض پیدا کرتی ہے
ہمارے معاشرے کے رہنے والوں سے میں انتہائ عزت و احترام سے اپیل کرتا ہوں کہ جیسے بجلی کے ٹرانسفرمر کے خراب ہونے سے یا منشیات کے خرید و فروخت کے خلاف اواز اٹھاتے ہیں اسی طرح ہمیںں دھول،دھواں اور گندگی کے خلاف اواز اٹھانی چاہیۓتاکہ ہمارا ماحول پاک و صاف رہے اور خطرناک بیماریوں سے بچ سکے۔
ہم نے دھول اور دھواں کو ہمیشہ نظر انداز کیا














