اٹھارہ سو سال قدیم املوک درہ سٹوپا





دعویٰ کرتے ہیں کہ ’’چینی زائر ’’ہیون سانگ‘‘ (جو ساتویں صدی عیسوی میں سوات کے علاقے سے گزر چکے ہیں) بھی املوک درہ سٹوپا کا دورہ کرچکے ہیں، مگر بدقسمتی سے ان کے لکھے گئے سفرنامے کا ترجمہ کماحقہ نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم اب پروفیسر ’’میکس ڈیگ‘‘(Max Deeg) مذکورہ سفرنامے کا ترجمہ کر رہے ہیں، جس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔‘‘