سوات: جرمن لسانی ماہر ڈاکٹر اسٹیفن باؤمز نے کہا ہے کہ سوات وادی میں ہونے والی نئی دریافتوں سے گندھارا تہذیب کے بارے میں معلومات میں بڑی وسعت آئی ہے۔ ان کے مطابق سوات قدیم زمانے میں بدھ مت کا ایک اہم مرکز تھا اور یہاں کی پرانی زبانوں کا تعلق آج کے شمالی پاکستان کی کئی زبانوں سے ہے۔

ڈاکٹر باؤمز، جو یونیورسٹی آف میونخ میں سنسکرت، پراکرت اور پالی زبانیں پڑھاتے ہیں، نے بتایا کہ سوات میں دریافتوں کی تیزی سے ماہرین کو جنوبی ایشیا کی پرانی ثقافت اور زبانوں کو سمجھنے میں بڑی مدد ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اطالوی آثارِ قدیمہ مشن نے سوات میں تقریباً 100 قدیم کتبے (تحریری پتھر) دریافت کیے ہیں۔ یہ تمام کتبے اس بڑے مجموعے کا حصہ ہیں جس میں پورے گندھارا خطے کے ایک ہزار سے زیادہ کتبے شامل ہیں۔

ڈاکٹر باؤمز کے مطابق قدیم سوات میں دو زبانیں اور رسم الخط رائج تھے۔ ان میں ایک خروشتی رسم الخط تھی، جو گندھاری زبان میں لکھنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ خروشتی دراصل ہخامنشی سلطنت کے آرامی رسم الخط سے نکلی تھی۔ فارسیوں کے جانے کے بعد اسے سوات اور گندھارا میں مقامی زبان لکھنے کے لیے اپنایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ گندھاری زبان میں سنسکرت کی کئی آوازیں اور الفاظ آج بھی محفوظ ہیں۔ یہی خصوصیت اسے شمالی پاکستان کی داردی زبانوں جیسے توروالی، کوہستانی اور گوی سے جوڑتی ہے۔

ڈاکٹر باؤمز کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ گندھاری اور داردی زبانوں کے کچھ الفاظ پشتو میں بھی شامل ہوئے ہوں، جس پر مزید تحقیق کی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وقت کے ساتھ ساتھ مذہب اور زبانوں میں تبدیلی آئی، اور تیسری یا چوتھی صدی عیسوی میں خروشتی رسم الخط کی جگہ براہمی رسم الخط نے لے لی، جس میں سنسکرت لکھی جاتی تھی۔ سوات سے براہمی میں لکھی گئی سب سے پرانی تحریر شاکورئی جہاں آباد سے ملی ہے۔

بعد میں یہ رسم الخط پروٹو شاردا اور پھر شاردا میں بدل گیا، جو ہندو شاہی دور میں عام تھا۔ بریکوٹ سے آٹھویں صدی کا ایک کتبہ اور ایک اور تحریر ملی ہے جس میں بادشاہ جیا پلادیو کا ذکر ہے، جو دسویں صدی میں یہاں حکومت کرتے تھے۔

ڈاکٹر باؤمز نے بتایا کہ یہ تبدیلیاں ظاہر کرتی ہیں کہ وقت کے ساتھ سوات میں بدھ مت کے دور سے ہندو دور حکومت میں منتقلی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ سوات سے ملنے والے یہ کتبے بدھ مت کے ابتدائی دور کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر تیراٹ کے مقام پر بدھ کے کندہ قدموں پر ایک تحریر ملی جس میں لکھا ہے:

“یہ بدھ شاکی مونی کے قدموں کے نشانات ہیں۔”

ماہرین کے مطابق یہ تحریر دوسری صدی قبل مسیح کی ہے اور یہ ثابت کرتی ہے کہ تیراٹ وادی سوات کا سب سے پرانا بدھ مرکز تھا۔

اسی طرح ایک کتبے میں بادشاہ سیناورما کا ذکر ہے، جو بدھ خانقاہوں کے سرپرست تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اُس زمانے میں تیراٹ اودی راجاؤں کا دارالحکومت تھا۔

بریکوٹ سے مٹی کے برتنوں پر بھی کئی تحریریں ملی ہیں جن پر راہبوں یا خانقاہوں کے نام درج ہیں۔ ایک میں نندا وہارا نامی خانقاہ کا ذکر ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بریکوٹ اس وقت ایک سرگرم مذہبی مرکز تھا۔

بتکرا سے ایک چھوٹا پتھر ملا جس پر خروشتی میں لکھا ہے:

“میرے پاؤں پہنچ گئے۔”

ڈاکٹر باؤمز کے مطابق یہ کسی زائر کی یادگار ہو سکتی ہے جو اپنے مذہبی سفر کے اختتام پر یہ نشانی چھوڑ گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام دریافتیں ثابت کرتی ہیں کہ سوات اور گندھارا صرف مذہبی اور فنون کے مراکز نہیں تھے بلکہ زبان اور علم کی جدت کے بڑے مراکز بھی تھے۔

ڈاکٹر باؤمز نے کہا کہ جیسے جیسے نئی دریافتیں سامنے آ رہی ہیں، ماہرین کے لیے سوات کی پرانی تہذیب، زبان اور مذہب کو سمجھنا مزید آسان ہوتا جا رہا ہے —

“یہی وہ تہذیب تھی جس نے کبھی سوات کو قدیم بدھ دنیا کا روشن ترین دل بنا دیا تھا۔”