فضل مولا ذاہد

6 جنوری 1883ء کو تین براعظموں، جنوب مشرقی یورپ، مشرقی وسطیٰ اور شمالی افریقہ تک پھیلی خلافتِ عثمانیہ کے زیرِ نگیں وطن لبنان کے شہر بشاری میں مسیحی پادری، خلیل بن سعد کے آنگن میں آنکھ کھولنے والے بچے کو دنیا کے دُکھ درد دیکھنے، سننے اورسہنے کے لیے جو عمرِ عزیز، اللہ میاں کی طرف سے مستعار میں عطا ہوئی، وہ صرف 48 برس کی طوالت پہ محیط تھی۔ یوں 10 اپریل 1931 پلک جھپکتے آیا، جب اِس دارِ فانی سے اُس کی جان چھوٹی اور اُس دارِ بقا میں پہنچی، جہاں اُس کی خمیر تھی، قصہ خلاص۔
مٹی کے اِس پتلے نے جلد یا بہ دیر جانا ہی تھا۔ وہ تو گیا،لیکن تاریخ کے کاریڈور میں اپنا نام اورمقام، قدرِ منزلت کی اُس حد تک پہنچا گیا کہ کوئی صدی بعد بھی شعرو شاعری کی فیض کی بات ہوتی ہے، تو اُس شہرہئ آفاق شاعر کی بات ہوتی ہے۔ فنونِ لطیفہ اور مصوری کی دین کی بات ہوتی ہے، تو اُس کی تصور کی بات ہوتی ہے۔ تصنیفوں کی ریل پیل کی بات ہوتی ہے، تو اُس کے کلیات بات ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ولیم شیکسپیئراورلاؤ تاز کے پائے کے شاعر تھے، اور اُن کے بعد تاریخ میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے بھی۔ مال و متاع کے بجائے علم و دانش کا جو ترکہ انہوں نے چھوڑا، رہتی دنیا تک اس کے ثمرات سے بنی نوع انسان مستفید ہوں گے۔
ایک دن دنیائے فلسفہ کے یہ عظیم معلم صبح صبح بیدار ہوئے، تو معمول کے مطابق اپنی مروجہ عبادات کی ادائیگی کے بعد ہوا خوری کے لیے سیر پر نکل پڑے، اور فطرت کے سحر زدہ ماحول میں ڈبکیاں کھاتے کھاتے ایک ایسے وسیع وعریض باغ میں پہنچ گئے جہاں ہر طرف پھل ہی پھل تھے، پھول ہی پھول تھے، سبزے کی رمق دمق تھی، پودوں کی شاخوں پرپرندوں کی جھرمٹ، چہچہاہٹ اور گویاموسیقی جیسی ”لے دے“ تھی اور اس بحرِ طلاطم خیز  میں ہواؤں کی سرسراہٹ کا پُرلطف سرور تھا۔ ایسی جنتِ ارضی ماحول میں ہم سمیت کون کافر ہوگا جو حسن و عشق کی کیفیات میں گُم صم نہیں ہوتا ہوگا۔ وہ بھی انسان تھے اور انسان بھی ایسے، جیسے اپنے ملنگ عبدالغنی خان بابا مرحوم ومغفور۔ سو وہی پر سبز گھاس پر سیدھے سیدھے تشریف فرما ہوئے۔ آنکھیں بند کرکے دنیا داری سے ماورا ہوئے، اور چل سو چل تخیل کی دنیا میں قدم رنجہ فرماگئے۔ مادیت کے پردے نظروں سے ہٹے۔ روح میں بالیدگی پیدا ہوئی اور یوں فطرت کے اسرار و رموز کے قریب ہوتے گئے، قریب ترہوتے گئے۔ ایسے میں باد ِنسیم کا ہلکا سا جھونکا درختوں اور شاخوں میں سے سرسراتا ہوا، اِس لبنانی نژادامریکی لکھاری کے کانوں کو گدگدانے لگا۔ انہوں نے اس جھونکے کو ایک بھولے بھٹکے یتیم بچے کی طرح آہیں بھرتے سنا تو حیران ہو کر اُس سے سسکیاں لینے کی وجہ پوچھی۔ بادِ نسیم نے دُنیائے ادب کے سرغنے کی سرزنش کرتے ہوئے غصّے میں اُس کے گھنگریالے بالوں کو بھاری بھر کم جھونکے سے توڑ مروڑ کرتے ہوئے جواب دیا:  ”سسکیاں اس لیے لے رہی ہوں کہ میں ابھی ابھی شہر سے لوٹ کر آ رہی ہوں، وہاں کی مٹی، سڑکیں اور در و دیوار گرمی کی وجہ سے تپ رہی ہیں، وہاں کی مختلف بیماریوں کے جراثیم میرے وجود میں لپک کر مجھے آلودہ کرتی ہیں، شہر بھر کی گندگیاں میرے تن میں سرائیت کرتی ہیں، گند اور دھویں نے میری خوشبوئیں بدبو میں بدل ڈالی ہیں،  تو ایسے میں بھی مَیں آہیں نہیں بھروں گی، تو کیا کروں گی؟ یہ تم، اشرف المخلوقاتیے اتنے گھٹیا کیوں ہوں؟“
بادِ نسیم کے تیکھے سوال کا جواب نہ دینے اور آلودہ ہوا کا سانس نہ لینے کے واسطے، اُس نے منھ دوسری طرف پھیر لیا، تو پھولوں کے نحیف چہروں کو اشک آلود دیکھا اورزارو قطاراُن کو روتا دیکھا۔ فلسفی مرتا کیا نہ کرتا، چار و ناچار اُن سے بھی وہی سوال دُہرانا پڑا۔ ایک پھول نے اپنا نرم و نازک اور غمزدہ سر اوپر اُٹھایا، اُس کی بے خبری کا ماتم کیا اور پھر اپنے رونے کا راز افشا کرتے ہوئے کہا: ”اے فلسفے کے بے تاج بادشاہ، تم کیا جانو کہ ہم پر یہ تیرے جیسے حضرتِ انسان کے ہاتھوں کیا گذرتی ہے؟  تھوڑا سا انتظار کرو، آج وہ حالت دیکھو گے، ابھی کوئی شخص آئے گا، ہمیں توڑ کر شہرلیتاجائے گا، منڈی میں ڈمپ کرکے بولی پر فروخت کروائے گا، کوئی خریدارکسی مرتبان یا گملے میں مرجھانے کے لیے ہمیں سجائے گا۔ مُرجھائیں گے، تو کوئی اُٹھا کر کوڑے کے ڈھیر میں پھینکوائے گا۔ کتنی ظالم ہے یہ تیری برادری مگر
شرم تم کو مگر نہیں آتی
شرمندگی کے لامتناہی سمندر میں ڈوبے شاعر نے اُس طرف سے آنکھیں بھی چرائیں، پینترا بھی بدلا اور سمت بھی تو آگے کیا دیکھتا ہے کہ ایک صاف ستھری ندی بہتے بہتے آہ و بکا کرتی ہے، روتی ہے اور کہتی ہے کہ مجھے آگے نہیں جانا، مجھے روکو! کیوں کہ شہر پہنچ کر مجھے گندی نالیوں میں ڈال دیتے ہیں، لوگ۔ میری پاکیزگی کو گندگی کا جامہ پہناتے ہیں، وہ۔“
حضرتِ انسان کا یہ اکلوتانمائندہ وہاں سے صرفِ نظر کرتا ہوا، اوپر کی طرف نگاہ ڈالتا ہے، تو کیا دیکھتا ہے کہ پرندوں کے جھرمٹ کے ساتھ نظروں کی مڈبھیڑ ہوتی ہے، جو اپنا رونا رورہی تھیں۔ متحیر مصنف جو اپنی انگریزی مضامین پر مشتمل فلسفیانہ کتاب ”دی پراپٹ“ کی وجہ سے عالمی طور پر مشہور ہوئے، جس کا پیدائشی نام جبران خلیل تھا۔ امریکہ ہجرت کرتے وقت غلطی سے اُلٹا، یعنی خلیل جبران لکھا گیا اور جس نے امریکی غلطی کو ٹھیک تسلیم کرکے، والد کانام ”اون“ کیا، نے پرندوں کے دُکھ کا ماجرا پوچھا۔ اُن میں سے ایک رہنماپرندہ اُڑ کر آیا اور اُن کے نزدیک ایک درخت کی شاخ پربیٹھ کر یوں گویا ہوا: ”اے ابنِ آدم، تیرے جیسا ایک ابنِ آدم ابھی کچھ ہی دیر میں مہلک ہتھیاروں سے لیس یہاں نازل ہو جائے گا اور ہم پر اِس طرح حملہ آور ہوگا جیسے وہ ہماری دشمنی کی آگ میں ایک عرصے سے تڑپ رہا ہوں۔ ابھی ہمارے پرندے ایک دوسرے کو الوداع کہہ رہے ہیں، کیوں کہ ہم نہیں جانتے کہ آج شام کو ہم میں سے کون کون صحیح سلامت گھر لوٹے گا اور کون کون تیرے جیسے اشرافوں کی درندگی کا شکار ہوگا۔ سو ہم جہاں جاتے ہیں، تو اسی طرح کی موت ہمارا پیچھا کرتی ہے، ایسے میں ہم روئیں گے نہیں، تو کیا گلچڑے اُڑائیں گے؟“
پھر اُس نے مال مویشی، پودوں اور درختوں کو دھاڑیں مار مار کر آہ و زاری کرتے دیکھا اور اِس دو ٹانگوں والی مخلوق سے شکایت کرتے دیکھا۔ جان داروں کا یہ احوال دیکھ کرجبران کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ وہ خیالوں کی دنیا سے نکلے، تو دیکھا کہ پہاڑیوں کے پیچھے سورج طلوع ہونے واالا تھا، اور درختوں کی چوٹیوں پر اپنی سنہری کرنیں بکھیر رہا تھا۔ اُس نے اُس کی حسین کرنوں کی طرف دیکھا اور کہا جس چیز کو دستِ فطرت نے جنم دیا ہے، عجب ہے، یہ حضرتِ انسان اس کو برباد کرنے پر تلا ہوا ہے۔ خدا کی تسبیح کرتے ہوئے نباتات و جمادات اس کی چیرہ دستیوں کے شکار ہیں۔ پوری کائنات پر اس کے ہاتھوں سے لرزہ طاری ہے۔
کرونا کی یہ خوفناک وبا کہیں فطرت کے انتقام کا ٹریلرتو نہیں؟ لیکن ہم نے یہ نہیں دیکھنا، بس اپنی شامتِ اعمال دیکھنا ہے، دیکھتا جا شرماتا جا!
کیا کہتے ہیں، امجد اسلام امجدؔصاحب بیچ اِس بابت، پڑھیے لیکن سر نہ دُھنیے۔
ہوا تھمی تھی ضرور لیکن
وہ شام جیسے سسک رہی تھی
کہ ذرد پتوں کو آندھیوں نے
عجیب قصہ سنا دیا تھا
جسے سن کے تمام پتے
سسک رہے تھے، بلک رہے تھے
نہ جانے کس سانحے کے غم میں
شجر جڑوں سے اکھڑ چکے تھے
بہت تلاشہ تھا ہم نے تم کو
ہر اک پربت ہر اک گھاٹی
ہر اک بستی ہر اک وادی
پر کہیں سے تیری خبر نہ آئی
تو ہم نے یہ کہہ کے خود کو سنبھالا
ہوا تھمے گی، تو دیکھ لیں گے
ہم ان کے رستوں کو ڈھونڈ لیں گے
مگر ہماری یہ خوش خیالی
ہمیں تو برباد کر چکی تھی
شجر پہ تارے نہیں رہے تھے
وہ لوگ سارے نہیں رہے تھے
وہ جن سے بستی تھی دل کی بستی
وہ لوگ پیارے نہیں رہے تھے
مگر یہ المیہ سب سے بالا تر تھا
کہ تم ”ہمارے“ نہیں رہے تھے
ہم ”تمہارے“ نہیں رہے تھے
ہوا تھمی تھی ضرور لیکن
بڑی ہی مدت گزر چکی تھی
بڑی ہی مدت گزر چکی تھی……!
یار زندہ صحبت باقی۔