سوات: گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کالام میں 9 میں سے 8 استانیاں ایک عرصے سے گھر بیٹھ کر تنخواہ لے رہی ہیں اور سیکڑوں طالبات کے لئے صرف ایک استانی سکول آتی ہے۔ مقامی افراد نے سکول میں استانیوں کی حاضری کے لئے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا۔ کالام کے واحد گرلز ہائی سکول میں 400 سے زائد طالبات پڑھنے جاتی ہیں لیکن پڑھائی کے بغیر واپس آتی ہیں۔ کیونکہ ایک استانی تمام کلاسوں کو نہیں پڑھا سکتی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سکول کی8 استانیاں سکول جاتی ہی نہیں اور گھر بیٹھے تنخواہ وصول کرتی ہیں۔ استانیاں نہ ہونے کی وجہ سے اکثر طالبات نے سکول جانا چھوڑ دیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے کالام کے لوگ لڑکیوں کو سکول جانے نہیں دیتے تھے، لیکن اب لڑکیوں کو تعلیم دلانے کے حق میں ہیں اور وہ اپنی بچیوں کو سکول بجھواتے ہیں، لیکن سکول میں استانیاں نہ ہونے کی وجہ سے اب مجبوراً لوگ سکول سے بچیاں نکال رہے ہیں۔ طالبات کاکہنا ہے کہ ان کو ابھی تک انگلش، میتھس، فزکس، کیمسٹری اور بیالوجی کی ایک بھی کلاس انہوں نے نہیں لی۔ اس سلسلے میں ڈی ای او (فیمیل) کا موقف جاننے کے لئے ان کے دفتر فون کیا، تو وہاں موجود ان کے پی اے نے بتایا کہ وہ پشاور میں ہے اور کالام سکول کے بارے میں انہوں نے ایس ڈی او بحرین کو تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
سوات محکمہ تعلیم میں اندھیر نگری چوپٹ راج،گورنمنٹ سکول کی 8 استانیاں گھر بیٹی تنخواہ لینی لگی۔













