طلحٰہ سکندر خان ایل ایل ایم (انگلینڈ )

پچھلے کچھ ہفتوں سے ملک کے مختلف سیاسی حلقوں میں جو بات زیر بحث ہے وہ چھبسویں آئنی ترمیم ہے جو کے ایوان بالا سے اور قومی اسمبلی سے پاس ہونے کے بعد صدر مملکت سے دستخط ہو کر نافزالعمل ہو گئ ہے۔یہ آینی ترمیم کل ٢٧ شقوں پر مشتمل ہے جس میں زیادہ تر شقیں اعلی عدلیہ میں ججوں کے تقرری سے متعلق ہیں۔
اس میں کوئ دو راۓ نھیں کہ عدلیہ ملک کے نظام عدل میں ریڑه کی ہڈی کی مانند ہے۔ ٢٠٠٧ کی عدلیہ تہریک کے بعد ملک میں عدلیہ کو بحال کیا گیا اور کچھ عرصے بعد ١٨ویں آئنی ترمیم پیش کی گئ جس میں آئن کی شق ١٧٥ اے کا اضافہ کیا گیا۔ اس سے قبل ملک کی عدالت عظمٰی میں ججوں کا تقرر چیف جسٹس اور صدر پاکستان کی باہمی مشاورت سے ہوتا تھا۔اس بیچ سنہ ١٩٩٦ میں مشہور زمانہ الجہاد ٹرسٹ کیس میں یہ بات وضح کی گئ کہ چیف جسٹس کی راۓکو فوقیت دی جاۓ۔ ١٨ویں ترمیم کے تحت آئن کی شق ١٧٥ اے عدالت اعٰلیہ اور عدالت عظمٰی کے ججز کی تقرری کا طریقہ کار وضح کیا گیا۔
اس شق کے تحت جوڈیشیل کمیشن کا قیام لایا گیا جس میں چیف جسٹس سمیت دو سئنر ججز ،ایک سابق جج،وزیر قانون،اٹارنی جنرل اور ایک سینئر وکیل آف سپریم کورٹ شامل ہوں گے۔ بعد ازاں ٩ا ویں ترمیم کے تحت مزید دو رکن بصورت سئنر ججز شامل کۓ گۓ۔ ا٧ویں اور ١٩ ویں ترمیم کے مطابق جوڈیشیل کمیشن ججز کے تقرری کیلۓ نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے گا جو ٨ ارکان پر مشتمل ہو گا جس میں ایوان بالا اور قومی اسمبلی سے یکساں تعداد میں ارکان شامل ہوں گے۔یہ پارلیمانی کمیٹی جوڈیشیل کمیشن کی طرف سے نامزد ناموں پر غور کرنے کے بعد وزیر اعظم کو بھیجواۓ گی جو صدر کو تقرری کیلۓ بولیں گے۔ نئ آئنی ترمیم کے مطابق
جوڈیشیل کمیشن میں چار کے بجائے تین ممبر شامل ہوں گے۔ایک سابق جج کے بجائے آئنی عدالت کے سینئر ترین جج شامل ہوں گے۔چار مزید ارکان ایوان بالا اور قومی اسمبلی سے یکساں تعداد میں حکومت اور حزب اختلاف سے شامل ہوں گے۔اس نئ آئنی ترمیمم کے مطابق آئن کی شق١٨٤ کے جز ٣ کے تحت سپریم کورٹ کے ازخد نوٹس کے اختیار کو محدود کیا گیا۔اس ترمیم کے تحت آئن کی شق ١٩١ اے کا اضافہ کیا گیا جس کا مقصد آئنی عدالتوں کا نفاذ ہے۔ اس آئنی ترمیم کو متعدد سیاسی اور سماجی حلقوں میں مختلف زاویوں سے دیکها گیا۔اگر ججوں کی تقرری کے عمل کا موازنہ دوسرے ممالک سے کیا جاۓ تو اس عمل میں حکومتی مشاورت واضح ہے۔اگر امریکا کی بات کی جاۓ تو اس عمل کو صدر سینیٹ کی منظوری کے بعد طے پاتے ہیں۔ اسی طرح ڈنمارک جسے بہترين نظام عدل کی وجہ سے جانا جاتا ہے وہاں ججوں کی تقرری کیلۓ ایک تعیناتی کونسل موجود ہے جس میں عدلیہ اور سول سوسائٹی کے ممبران شامل ہیں جو باہمی مشاورت کے بعد وزارت انصاف کو نام ارسال کرتی ہے جو کہ حتمی شکل دینے کیلۓملکہ کو نام بھیجتے ہیں۔اسی طرح برطانیہ میں یہ عمل وسیع تر مشاورت کے بعد طے پاتا ہے۔لارڈ چانسلر ایک آزاد تقرری کمیشن تشکیل دیتا ہے جو باقاعدہ اشتہار کے ذريعے لوگوں کومدعو کرتے ہیں پھر کئ سیاستدانوں اور ججوں سے مختلف ناموں پر مشاورت کی جاتی ہے اور پھر لارڈ چانسلر کو نام بھجواۓ جاتے ہیں جو دوبارہ سیاستدانوں اور ججوں سے مشاورت کے بعد وزیر اعظم کو نام ارسال کرتے ہیں اور پھر یہ نام بادشاہ کے پاس حتمی تقرری کیلۓ جاتے ہیں۔ یہاں یہ بات واضح ہے کہ یہ عمل دنیا کے مختلف ممالک میں وسیع تر مشاورت کے بعد طے پایا جاتا ہے۔ اسی اثناء میں ٢٦ ویں آئنی ترمیم کے ذریعے اس عمل کو مزید مشاورت اور ہم آہنگی سے طے کر لیا جاۓ تو کوئ حرج نہیں لیکن یہ عمل وسیع تر عوامی مفاد میں ہونا چاہیۓ۔ویسے بھی جمہوری طرز سیاست اور پارلیمانی طرز حکومت میں قومی نمائندگان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا