اسلام آباد میں قومی علماء و مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واضح کیا کہ فتنہ الخوارج پاکستان کی سلامتی، نظریے اور عوام کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے اور افغانستان کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ فتنہ الخوارج کا ساتھ دیتا ہے یا پاکستان کے ساتھ امن اور استحکام کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے علاوہ کسی فرد یا گروہ کو جہاد کا اعلان یا فتویٰ دینے کا اختیار حاصل نہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے قرآن کریم کی آیات اور اسلامی تاریخ کے حوالوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاستِ طیبہ اور ریاستِ پاکستان کے قیام میں گہری مماثلت ہے کیونکہ دونوں کی بنیاد کلمۂ طیبہ پر رکھی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو محافظِ حرمین کا شرف عطا کیا اور یہ ذمہ داری ہمیں اپنے کردار، علم اور اتحاد سے نبھانی ہے۔
انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن بنیان المرصوص میں اللہ کی خصوصی مدد کو محسوس کیا گیا اور افواجِ پاکستان نے قربانیوں کی نئی تاریخ رقم کی۔ فیلڈ مارشل کے مطابق افغانستان سے آنے والی فتنہ الخوارج کی تشکیلوں میں بڑی تعداد افغان شہریوں کی ہے، جو پاکستان کے معصوم عوام، بچوں اور شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، یہ صورتحال کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی۔
خطاب میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس امر پر بھی زور دیا کہ جن قوموں نے علم، قلم اور فکری ورثے کو چھوڑ دیا وہ زوال کا شکار ہو گئیں، لہٰذا پاکستان کی بقا کے لیے علم، اتحاد اور ریاستی نظم و ضبط ناگزیر ہے۔ انہوں نے علماء و مشائخ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ قومی بیانیے کی تشکیل اور نوجوان نسل کی درست رہنمائی میں علماء کا کردار کلیدی ہے۔
کانفرنس میں ملک بھر سے تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ نے شرکت کی اور فیلڈ مارشل کے موقف کی بھرپور تائید کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف ریاست کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔
ریاست کے علاوہ کوئی بھی جہاد کا حکم یا فتویٰ نہیں دے سکتا، فیلڈ مارشل عاصم منیر













