میاں گل عبدالحق
موجودہ حکومت پی ٹی آئی کی تعلیمی ترقی کے بلند بانگ دعوے تو کرتی ہے، لیکن ان کے یہ دعوے عموماً سراب اور کھوکھلے نعرے ہی ثابت ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں راقم سوات کے مشہور گاؤں سنگوٹہ کا ایک اہم اور کئی سالوں سے دیرینہ تعلیمی مسئلہ پیش کرنا چاہتا ہے۔
گاؤں سنگوٹہ میں 1968ء سے طلبہ کے لیے ایک مڈل سکول موجود ہے، جو سابق والیِ سوات (مرحوم) کے دورِ حکومت میں تعمیر ہوا تھا۔ اس زمانے میں سنگوٹہ کی آبادی کم تھی، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ تقریباً پچاس سال ہوگئے، سنگوٹہ کی آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوا، لیکن کسی بھی حکومت کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ مذکورہ گاؤں کی تعلیمی ضرورت کے پیشِ نظر یہاں کے مڈل سکول کو ہائی کا درجہ دے۔
گورنمنٹ مڈل سکول سنگوٹہ برائے طلبہ فضاگٹ کے نزدیک روڈ سے ذرا پرے ’’شاہ میلئی‘‘ روڈ پر واقع ہے۔ ناکافی کمروں پر مشتمل اس بلڈنگ میں پرائمری لیول کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں موجودہ پی ٹی آئی حکومت کے کچھ لوگوں اور خاص کر تبدیلی کے دعوے دار ایم پی اے عزیز اللہ عرف ’’گران‘‘ نے گاؤں سنگوٹہ مڈل سکول میں عوام کے سامنے سرِ عام اس سکول کے اَپ گریڈیشن کا اعلان کیا تھا کہ ’’گاؤں سنگوٹہ میں مڈل سکول کو ہائی کا درجہ دیا جاتا ہے۔‘‘ اب ایک بار پھر محترم عزیز اللہ گران صاحب ایم پی اے منتخب ہوئے ہیں مگر ابھی تک ان کا کیا گیا اعلان جو ایک وعدے کی شکل میں تھا، پورا نہیں ہوا۔
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ آج جیسے جدید دور میں سنگوٹہ جیسے گنجان آباد گاؤں میں بوائے ہائی سکول ہے، نہ گرلز پرائمری سکول اور نہ گرلز ہائی سکول ہی ہے۔ یہاں کے ریاستِ پاکستان کا مستقبل (طلبہ و طالبات) آٹھویں جماعت کے بعد مزید تعلیم کے حصول کے لیے مینگورہ شاہدرہ وتکے نمبر 3 اور چارباغ ہائی سکول میں داخلہ لیتے ہیں۔ ان غریب طلبہ و طالبات کو ٹرانسپورٹ اور بعض اوقات رہائش اور کھانے پینے کے اخراجات بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں، جو عموماً ان کی استطاعت سے باہر ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ایم پی اے صاحب کے حلقۂ نیابت کے پہاڑی علاقوں یعنی سر سردارے، کس، اور بنجوٹ جیسے گاوؤں میں بھی ہائی سکولز موجود ہیں۔ ان پہاڑی علاقوں کی آبادی بھی سنگوٹہ گاؤں کے مقابلے میں کم ہے۔
تو قارئین، حاصلِ نشست کے طور پر بس یہی کہنا مقصود ہے کہ تقریباً نصف صدی سے گورنمنٹ بوائز سکول سنگوٹہ اَپ گریڈیشن کا منتظر ہے۔ اس امید پر اے ایم پی اے عزیز اللہ صاحب! یہاں کے بڑے بزرگ دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کی یہ امید پوری نہیں ہوئی۔ یہاں علاقہ کے عمائدین، عام عوام، طلبہ اور طالبات کے پُرزور مطالبہ کے پیشِ نظر تبدیلی کی دعویدار صوبائی حکومت وزیراعلیٰ محمود خان، وزیر تعلیم ضیاء اللہ بنگش سے گورنمنٹ مڈل سکول کے ہنگامی بنیادوں پر اَپ گریڈیشن کے احکامات صادر کریں۔اپنی ہی پارٹی کے ایک ایم پی اے صاحب کے گاؤں سنگوٹہ مڈل سکول میں عوام کے سامنے سر عام اعلان اور وعدہ کو پورا کریں۔یہ عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے اور یہ مطالبہ حقیقت پر مبنی بھی ہے۔اس طرح گاؤں سنگوٹہ کی قوم اور باالخصوص طلبہ و طالبات پر تحریک انصاف کی سرکار کا ایک بہت بڑا احسان ہوگا۔
ایم پی اے گران اور مڈل سکول سنگوٹہ













