راولپنڈی (اے پی پی) پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے دہشتگردی میں ملوث مزید 14 دہشتگردوں کی سزائے موت اور 8دہشت گردوں کی عمر قید کے فیصلوں کی توثیق کر دی ہے۔ان دہشت گردوں کی کارروائیوں کے دوران 3فوجی جوانوں سمیت 22افراد شہید اور 23افراد زخمی ہوئے تھے ،یہ دہشت گرد تعلیمی اداروں ،پی ٹی ڈی سی کے مالم جبہ ہوٹل اور پی ٹی اے ایکسچینج ٹاور کو تباہ کرنے کی کارروائیوں میں ملوث تھے ۔آئی ایس پی آر کے مطابق رحمان علی ولد حسن غنی ،رحمت علی ولد شیر ملک ،سیف الرحمان ولد اکبر امن اور فضل محمود ولد فضل ربی تعلیمی اداروں کو تباہ کرنے اور اور مسلح افواج پر حملوں میں ملوث تھے جس کے نتیجے میں نائب صوبیدار محمد حنیف سمیت 5فوجی اہلکار شہید اور 12افراد زخمی ہوئے۔ارشاد احمد ولد ممتاز کالعدم تنظیم کا رکن تھا ۔ یہ سپاہی رضا خان کوشہیدکرنے اورپی ٹی ڈی سی کے مالم جبہ ہوٹل کو تباہ کرنے کی کارروائی میں ملوث تھا ۔ ۔عفرین ولد نعیم کالعدم تنظیم کا رکن تھا ،یہ مسلح افواج پر حلموں میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں 5اہلکار شہید اور 7زخمی ہوئے تھے۔ احمد حسن ولد قاری محمد حنیف کالعدم تنظیم کا رکن تھا ،یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں ملوث تھا جس کے نتیجے میں نائب صوبیدار حسین فراز سمیت 4جوان شہید اور 5زخمی ہوئے۔ باچارحمان ولد ماسون جان کالعدم تنظیم کا رکن تھا ۔اس کے حملے میں حوالدار محمد الیاس سمیت 4جوان شہید اور 6افراد زخمی ہوئے تھے۔ محمد مجید ولد صنوبر کالعدم تنظیم کا رکن تھا ۔اس کے حملے میں سپاہی آصف محمود شہید اور 2جوان زخمی ہوئے تھے ۔یہ گورنمنٹ پرائمری سکول زنگی سوات اور پی ٹی اے ایکسچینج ٹاور کو تباہ کرنے میں بھی براہ راست ملوث تھا ۔ محمد عاقل ولد نواب علی کالعدم تنظیم کا رکن تھا ۔اس کے حملے میں اے ایس آئی نور زمان سمیت 4اہلکار شہید اور 5زخمی ہوئے تھے ۔ سیف اللہ ولد محمد رفیق کالعدم تنظَم کا رکن تھا یہ گورنمنٹ پرائمری سکول لانگر (سوات) کو تباہ اور مسلح افواج پر حملوں میں ملوث تھا جس میں نائیک غلام حسن ،سپاہی شوکت علی شہید اور 2زخمی ہوئے تھے ۔ محمد شیر علی ولد شیر افضل خان کے حملے میں سپاہی رضا خان شہید ہوا ۔ محمد طارق اور غلام بادشاہ کے حملے کے نتیجے میں نائیک محمد سلیمان شہید اور ایک اہلکار زخمی ہوا تھا ۔ علی رحمان ولد فضل وحید کالعدم تنظیم کا رکن تھا اس کے حملے میں سپاہی شوکت علی شہید اور ایک جوان زخمی ہوا ۔